اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
خانقاہ کا بانی بھی تھا۔ تھیوفین بغیر کسی حوالے کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ”مشرقی باشندوں کا حکمراں اور ایک بناوٹی رسول“ لکھتا ہے۔ ڈانتے کا ایک ہم عصر مسیحی جس نے بغداد کا سفر کیا تھا، اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ شیطان جب خود مشرقی ممالک میں عیسائی مذہب کی ترقی کو روک نہ سکا تو اس نے اپنی طرف سے ایک آسمانی کتاب تیار کی اور ایک ابلیس فطرت آدمی کو اپنے وسیم کے طور پر استعمال کیا۔ یہ آسمانی کتاب قرآن اور وہ وسیلہ محمد ہیں (نعوذ باللہ)۔ عبدالمسیح بن اسحاق الکندی ایک مشرقی عیسائی تھا۔ اس کو اسپین میں ایک سید زادہ مسلمان نے تحریری طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس واقعہ نے عرب کے عیسائی کو موقع دیا کہ وہ عیسائیت کا دفاع کرے اور اسلام پر حملہ آور ہو۔ الکندی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شہوت پرست اور ایک قاتل کی حیثیت سے پیش کیا جن کی کتاب محض مصنوعی الہامات کا مجموعہ تھی اور جن کا مذہب دھوکے، تشدد اور نفس پرستانہ تعلیمات کی چاٹ دلا کر پھیلایا گیا (رسالات الکندی مطبوعہ قاہرہ 1912ء)۔ ان باتوں کے نتیجہ میں عیسائی دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کچھ ایسی فضا پیدا ہو گئی تھی کہ کوئی افسانہ خواہ کتنا ہی عجیب ہو اور اس کی کوئی اصل نہ ہو، فوراً قبول کر لیا جاتا تھا۔ قرطبہ کا ایک بشپ ایولوگیس (Eulogius) جو اپنے وقت کا بہت بڑا عالم تھا، وہ لاطینی تحریر کے حوالے سے جو ایک عیسائی راہب نے تیار کی تھی، لکھتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے اصحاب فرشتوں کا انتظار کر رہے تھے جو اتریں اور ان کے جسم کو اوپر لے جائیں۔ مگر اس کے بجائے کتے آئے اور ان کے جسم کھا گئے اسی لیے مسلمان ہر سال بہت بڑے پیمانے پر کتوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ایولوگیس، اسپین کے مسلم دارالسلطنت میں رہتا تھا۔ وہ معمولی کوشش سے جان سکتا تھا کہ اس پورے افسانے میں صرف اتنی سی حقیقت ہے کہ مسلمان کتے کو ایک ناپاک جانور سمجھتے ہیں۔ لاطینی زبان سے یہ کتے کا افسانہ فرانسیسی میں پہنچا۔ چنانچہ ایک قدیم فرانسیسی نظم میں کتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader