قیاسی مسئلہ
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
قیاسی مسئلہ عام طور پر مشہور ہے کہ اسلامی شریعت نے رسول پر شتم کرنے والے کے لیے قتل کی سزا بطور حد مقرر کی ہے۔ یعنی یہ ایسی سزا ہے جو لازما جاری کی جائے گی، وہ توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتی۔ مگر یہ مسئلہ جتنا مشہور ہے، اتنا ہی وہ بے اصل اور غیر ثابت شدہ بھی ہے۔ اگلے صفحات میں ہم قرآن، حدیث اور فقہ تینوں اعتبار سے اس مسئلہ کا جائزہ لیں گے۔ اس موضوع پر غالباً سب سے زیادہ جامع کتاب علامہ ابن تیمیہ (728-661ھ) کی ہے۔ ان کی زندگی میں شتم کا ایک واقعہ ہوا۔ عساف نامی ایک نصرانی نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے۔ اس کے بعد شام و مصر میں بحث چل پڑی کہ جو شخص رسول پر سب وشتم کرے، اس کی سزا اسلامی شریعت میں کیا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر ابن تیمیہ نے ایک ضخیم کتاب لکھی جو بعد کو الصارم المسلول علی شاتم الرسول کے نام سے شائع ہوئی ۔ یعنی رسول کو گالی دینے والے کے اوپر کھلی تلوار راقم الحروف کے پاس جو نسخہ ہے وہ 600 صفحات پر مشتمل ہے۔ قرآن سے استدلال ابن تیمیہ اپنی اس کتاب (الصارم المسلول علی شاتم الرسول) کی ایک فصل ( لَمَسْأَلَةُ الْأُولَى: أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ فَإِنَّهُ يَجِبُ قَتْلُهُ ) میں لکھتے ہیں کہ جہاں تک ایسی آیتوں کا تعلق ہے جو شاتم کے کفر اور اس کے قتل پر دلالت کرتی ہوں تو ایسی آیتیں قرآن میں بہت ہیں: "وَأَمَّا الْآيَاتُ الدَّلَّاتُ عَلَى كُفْرِ الشَّاتِمِ وَقَتْلِهِ ... فَكَثِيرَةٌ " (صفحہ 28)۔ مگر اس کے بعد اس کے ثبوت میں انھوں نے جو آیتیں نقل کی ہیں، ان کا قتل شاتم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader