Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

قیاسی مسئلہ

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی پیش کی ہوئی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو پیغمبر کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے۔ کہو کہ وہ تمہاری بھلائی کے لیے کان ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے۔ اور وہ رحمت ہے ان کے لیے جو تم میں اہل ایمان ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں، ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ وہ تمہارے رب کے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تا کہ تم کو راضی کریں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اس کو راضی کریں۔ اگر وہ مومن ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے، اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے (63-9:61)۔ ان آیتوں میں ایسے لوگوں کا ذکر تو یقیناً ہے جنھوں نے پیغمبر کو اذیت پہنچائی تھی مگر ان میں صراحتاً یا اشارتاً کسی بھی انداز میں حکم موجود نہیں کہ ایسے لوگوں کو قتل کر دو۔ ان آیتوں میں صرف جہنم کی آگ اور آخرت کے رسوا کن عذاب کا ذکر ہے، گویا یہ آیتیں مسلمانوں سے کہہ رہی ہیں کہ تم ان "شاتمین" سے اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کا جو جرم ہے، اس کی سزا انھیں قیامت میں دی جائے گی۔ تمہارا کام دعوت دینا ہے اور اللہ کا کام محاسبہ کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آیتوں سے قتل شاتم کا مسئلہ نکالنا لغت اور تفسیر کے علم سے کشتی لڑنے کے ہم معنی ہے۔ دوسری آیت جو ابن تیمیہ نے قتل شاتم کے ثبوت میں پیش کی ہے، اس میں صرف یہ ہے کہ تم مخالفین رسول سے دوستی نہ رکھو۔ اس کے علاوہ سزاے قتل کا اس میں بھی مطلق کوئی ذکر نہیں۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: تم ایسی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور وہ ایسے لوگوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page