Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

قیاسی مسئلہ

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

سے دوستی رکھے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں ، اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا ایمان لکھ دیا ہے۔ اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے۔ اور وہ ان کو باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا ، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے (58:22)۔ اس دوسری آیت کے تحت ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ابو قحافہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کیا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو قتل کرنا چاہا۔ یا یہ کہ ابن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کی تو اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کی اجازت مانگی۔ اس لیے ثابت ہو گیا کہ رسول سے مخالفت کرنے والا کافر اور قابل قتل ہے: ”قِيْلَ: اِنَّ مَنْ سَبَّ نُزُولَهَا أَنَّ أَبَا قُحَافَةَ شَتَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ الصِّدِّيقُ قَتْلَهُ، أَوْ أَنَّ ابْنَ أَبِي تَنَقَّصَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَ ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِهِ، لِذَلِكَ فَثَبَتَ أَنَّ الْمُحَادَّ كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ“ (صفحہ 29)۔ ابن تیمیہ کے یہ الفاظ دلیل نہیں ہیں بلکہ دھاندلی ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ مذکورہ دونوں واقعہ میں ابو بکر صدیق اور ابن ابی کے بیٹے (عبد اللہ) کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کو قتل کردوں ۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس واقعہ کا اگلا حصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی کے بھی قتل کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ دونوں ”شاتم“ زندہ رہے اور اپنی طبعی موت مرے۔ (ابو قحافہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے، اسباب النزول للواحدی ، سورہ المجادله، آیت 22،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page