قیاسی مسئلہ
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
صفحہ 414 ؛ الاصابۃ لابن حجر، جلد 4، صفحہ 375، اور عبداللہ بن ابی کے واقعہ کے لیے دیکھیے، الاستیعاب في معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ (941 ظاہر ہے کہ ان واقعات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے شریعت کا حکم اخذ کیا جائے گا، نہ کہ دو مسلمانوں کے ان الفاظ سے جو ہنگامی حالت میں ان کی زبان سے نکل پڑے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق نہیں فرمائی۔ موجودہ زمانہ میں سلمان رشدی کا کیس سامنے آنے کے بعد جو لوگ اس قتل کی وکالت کر رہے ہیں، انھوں نے بھی اس سلسلہ کی کثرت سے مضامین اور بیانات شائع کیے ہیں۔ اس مضامین میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاتم کو قتل کرنے کا مسئلہ قرآن سے ثابت ہے۔ مگر ان سب کی دلیلیں بھی اسی طرح بے اصل ہیں جس طرح ابن تیمیہ کی دلیل بالکل بے اصل ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے عالم مولانا قاضی مظہر حسین صاحب، رشدی کے خلاف ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ”رشدی جیسے ملعون کا واجب القتل ہونا کئی آیات سے ثابت ہوا ہے“ (ماہنامہ حق چاریار، لاہور، جون 1989 )۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن کی ایک آیت پیش کی ہے، اس آیت کا ترجمہ حسب ذیل ہے: بے شک جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دیتے ہیں، بغیر اس کے کہ انھوں نے کچھ کیا ہو، تو انھوں نے بہتان کا اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا (58: 57-33)۔ اس آیت میں رسول کو اذیت پہنچانے کا ذکر تو ضرور ہے۔ مگر اس میں یہ حکم قطعاً موجود نہیں کہ ایذاے پہنچانے والے شخص کو قتل کر دو۔ اس آیت میں صرف خدا کی لعنت اور خدا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader