Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

عذاب کا ذکر ہے۔ دنیا کے قانونی سزا کے ذکر سے یہ آیت بالکل خالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحب مضمون نے قرآن سے لفظ ”ایذاء“ لیا، اور ”قتل“ کا لفظ اس میں اپنی طرف سے جوڑ دیا۔ اگر اس طرح سے بھی کوئی بات ثابت ہوتی ہو تو کون سی بات ہے جو قرآن سے ثابت نہ کی جا سکے۔ جس شخص نے بھی قتلِ شاتم کے مسئلہ کو قرآن سے ثابت کرنا چاہا ہے، اس نے اسی قسم کا انداز اختیار کیا ہے جس کی دو مثالیں اور اوپر نقل کی گئیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے قرآن میں ایسی کوئی آیت موجود ہی نہیں جس میں یہ حکم دیا گیا ہو کہ شاتم کو قتل کر دو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام ترا ایک خود ساختہ مسئلہ ہے۔ اس کا خدا کی کتاب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ حدیث سے استدلال پورے ذخیرہ حدیث میں کوئی معتبر روایت ایسی موجود نہیں جس کے عبارت النص میں یہ حکم دیا گیا ہو کہ سب و شتم کرنے والے کو قتل کر دو۔ مثلاً اس کے الفاظ یہ ہوں کہ ”مَنْ سَبَّ رَسُولَكُمْ فَاقْتُلُوهُ۔“ (جو تمھارے رسول کی سب و شتم کرے اس کو تم سب قتل کر دو) یا ”مَنْ شَتَمَ نَبِيّاً مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَيُقْتَلُ حَدّاً، (جو کسی بھی نبی کی سب و شتم کرے اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا)۔ اس سلسلے میں حدیث سے قتل کا جو حکم نکالا گیا ہے، وہ حکم بطریق قیاس نکالا گیا ہے، نہ کہ بطریق نص۔ اس معاملہ میں سب سے عام استدلال یہ ہے کہ حدیث میں یہ حکم آیا ہے کہ جو شخص اپنے دین کو بدل ڈالے اس کو قتل کر دو: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3017)۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ رسول کا سب و شتم ارتداد کے ہم معنی ہے، اس لیے ایسا فعل کرنے والا مرتد ہو گیا۔ اور جب وہ مرتد قرار پا گیا تو حدیث کے مطابق وہ اس کا مستحق ہو گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ یہ استدلال کی وہی قسم ہے جس کے ذریعہ شاعر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page