Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

نے شہد کی مکھی کے ’’قتل‘‘ کا جواز نکالا تھا: مکھی کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانوں کا ہوگا حقیقت یہ ہے کہ ارتداد اور شتم کو ہم معنی قرار دینا بذات خود ایک غلط قیاس ہے۔ ارتداد ایک شخصی فعل ہے جس طرح قاتل کا قتل کرنا ایک شخصی فعل ہے۔ کیونکہ شاتم اپنے شتم کے ذریعہ دوسروں پر اثر ڈالتا ہے۔ وہ دوسروں کے اندر دین کے بارے میں شک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ شتم اعتراض اور تنقید اور نکتہ چینی کی نوعیت کا فعل ہے۔ مرتد کو ذاتی سزا دے کر اس کا مسئلہ ختم کیا جاسکتا ہے، مگر شتم کے اثرات کو اس وقت تک ختم کرنا ممکن نہیں جب تک اس کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کو دلیل کے ذریعہ رد نہ کر دیا جائے۔ اس کی ایک مثال لیجیے۔ یہ مثال وہ ہے جو قرآن کی سورہ نمبر 108 (الکوثر) کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔ عربی زبان میں ابتر کے معنی ہیں کٹا ہوا۔ عربی میں اس شخص کو ابتر کہا جاتا ہے جو بے اولاد ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں چونکہ اولاد نرینہ نہ تھی، اس لیے مکہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے۔ یعنی ایسا شخص جس کی نسل آئندہ باقی نہ رہے۔ العاص بن وایل قدیم مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتا کہ انھیں چھوڑو، وہ ایک ابتر شخص ہیں ان کے بعد ان کا کوئی وارث نہیں۔ جب کہ وہ ختم ہوں گے تو ان کا ذکر بھی ختم ہو جائے گا: دَعُوْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَبْتَرُ لَا عَقِبَ لَهُ، فَإِذَا هَلَكَ انْقَطَعَ ذِكْرُهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 477)۔ یہ واضح طور پر شتم رسول کا ایک واقعہ تھا۔ اس سے عام انسان اس غلط فہمی میں پڑ رہے تھے کہ واقعی پیغمبر اسلام ابتر ہیں ، ان کے بعد اس کا سلسلہ باقی رہنے والا نہیں۔ اس غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر کچھ لوگ آپ پر ایمان لانے میں متردد ہو رہے تھے۔ اب اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page