Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب یہ نہیں تھا کہ عاص بن وائل اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کو قتل کردیا جائے۔ اس کا جواب یہ تھا کہ طاقتور دلیل سے اس کو رد کردیا جائے۔ چنانچہ اس کی تردید میں وہ سورہ اتری جس کو الکوثر (108) کہا جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ ہم نے محمد کو کوثر دے دیا ہے۔ محمد ابتر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ لوگ ابتر ہیں جو محمد کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کوثر کے لفظی معنی خیر کثیر کے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ خیر ہے جو اللہ نے آپ کو دیا: ھُوَ الْخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 474)۔ ابن عباس کے شاگرد عکرمہ نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد نبوت اور قرآن ہے: ھُوَ النُّبُوَّةُ، وَالْقُرْآنُ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 474)۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد سے زیادہ بڑی چیز دے دی ہے، اور وہ سچا دین ہے ۔ یہ دین لوگوں کو متاثر کرے گا اور کروڑوں لوگ آپ کی پیرو اور وفادار بن جائیں گے، ایک صلبی وارث کے بجائے آپ کو کروڑوں نظریاتی وارث حاصل ہوں گے۔ حتیٰ کہ خود مخالفین کی اولادیں اپنے باپ دادا کو چھوڑ کر آپ کا ساتھی بننے پر فخر محسوس کریں گی۔ ایسی حالت میں سمجھ لو کہ ابتر کون ہے، تم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ قرآن کا یہ جواب بلاشبہ قتل جسمانی سے زیادہ سخت تھا۔ قتل جسمانی ایک فرد کو ختم کرتا، مگر اس طاقتور تردید نے فرد کے پورے منصوبے کو ختم کردیا۔ مرتد اور شاتم کے فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ عرب کے مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جوم سب وشتم کرتے تھے، حسان بن ثابت انصاری اشعار کے ذریعہ اس کا جواب دیتے تھے۔ یہ اشعار شاتمین کو تیر سے بھی زیادہ سخت بن کر لگتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page