Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مقصد کی خاطر حسان بن ثابت کے لیے مسجد نبوی میں ایک منبر رکھا جاتا تھا۔ اس پر بیٹھ کر وہ اپنے جوابی اشعار پڑھتے تھے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاتمین کے مقابلہ میں منافحت (مدافعت) کرتے تھے (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 200)۔ شتم کرنے والوں کے بارے میں یہ بات عین صحیح اور مفید معلوم ہوتی ہے۔ اب اس بات کو مرتدین کے ساتھ جوڑ دیجیے اور الفاظ کو بدل کر اس طرح کیجیے کہ ”جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے، ان کا جواب حسان بن ثابت اشعار کی صورت دیتے تھے۔ اس مقصد کے لیے مسجد نبوی میں ایک خاص منبر رکھا جاتا تھا۔ حسان اس پر بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مرتدین کے مقابلہ میں منافحت (مدافعت) کرتے تھے۔“ پہلی بات انتہائی بامعنی معلوم ہو رہی تھی، مگر دوسری بات اتنی ہی بے معنی معلوم ہونے لگی ۔ کیونکہ مرتدین کا مقابلہ تلوار ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا۔ مگر سب وشتم کرنے والوں کا مقابلہ یہ ہے کہ ان کے الفاظ کا جواب زیادہ طاقتور الفاظ سے دیا جائے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاری نے کیا اور کامیاب ہوئے۔ اس مثال سے مرتد اور شاتم کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے پہلو ہیں جو حدیث ارتداد سے مذکورہ استنباط کو بے اصل قرار دیتے ہیں۔ مثلاً مذکورہ حدیث کا تعلق ایک مومن کے مسئلہ سے ہے۔ اس میں اس شخص کا حکم بیان کیا گیا ہے جو پہلے ایمان لایا، اس کے بعد اس سے اسلام کو ترک کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے برعکس، شتم کا تعلق مومن اور کافر دونوں سے ہے۔ فقہاء کا عام طور پر یہ کہنا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page