حدیث سے استدلال
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ رسول کی شاتمیں گستاخی کرنے والا ہر حال میں قتل کر دیا جائے گا، خواہ وہ مومن ہو یا کافر۔ ابن تیمیہ کے الفاظ میں جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کرے، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، بیشک اس کو قتل کرنا واجب ہے: ”انَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ فَإِنَّهُ يَجِبُ قَتْلُهُ، هَذَا مَذْهَبُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ‘‘ (صفحہ 4)۔ اب ایک ایسی حدیث جس کا تعلق صرف مسلمانوں کے گروہ سے ہو، جس میں مدعی ایمان کا مسئلہ بتایا گیا ہو، اس کو ایک ایسے عمومی حکم کا ماخذ کیوں کر بنایا جا سکتا ہے جس کا تعلق مومن اور کافر دونوں سے ہو، جس کو دونوں گروہوں کے اوپر یکساں طور پر نافذ کرنا مقصود ہو۔ دوسری بات یہ کہ کسی کی جانب سے گستاخی اور استہزاء کا فعل صادر ہونے کا موقع پر کیا کیا جائے، اس کے بارے میں ہم کو قیاس اور استنباط سے کام لینے کی ضرورت نہیں۔ اس کا واضح جواب قرآن و سنت میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ پھر جس مسئلہ کا شرعی حکم پیشگی طور پر بتا دیا گیا ہو، اس کے بارے میں ہم کو قیاس اور استنباط سے کام لینے کی کیا ضرورت۔ دوسرے مضمون میں ہم نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ قرآن میں استہزاء کرنے والوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ان کو مناسب انداز میں جواب دو۔ اگر اس کے باوجود وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔ اسی طرح سنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ عرب میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہجو اور بدگوئی کر رہے تھے، ان کے مقابلہ میں آپ نے منافحت لسانی کا طریقہ اختیار کیا، نہ کہ منافحت شمشیری کا۔ یہ نصوص بتاتی ہیں کہ گستاخی کرنے والے کا معاملہ دین کو بدلنے والے کے معاملہ سے مختلف ہے۔ دونوں کو ایک حکم کے تحت لانا درست نہیں۔ ابن تیمیہ نے زمانۂ رسالت کے کچھ واقعات جمع کیے ہیں، جب کہ کسی کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سب وشتم کی بنا پر قتل کیے گئے تھے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader