شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
مثلاً انھوں نے کعب بن الاشرف کے قتل کا ذکر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کو سب و شتم کی بنا پر قتل کیا گیا (صفحہ 73-70)۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کعب بن الاشرف کو بار بار نقض عہد (غداری) کرنے کی بنا پر قتل کیا گیا۔ کعب بن الاشرف دوسرے تمام مخالفین کی طرح سب و شتم کے الفاظ بولتا تھا۔ مگر اس کے قتل کا سبب اس کا نقض عہد تھا، نہ کہ سادہ طور پر صرف سب و شتم۔ اسی طرح ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ ابو جہل کو اس کے سب و شتم کی بنا پر دو انصاری نوجوانوں نے قتل کیا (160-159)۔ مگر یہ سراسر بے دلیل بات ہے۔ ابو جہل میدان جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی لڑتا ہوا مارا گیا۔ وہ مشرکوں کی فوج لے کر مدینہ پر چڑھائی کے ارادہ سے نکلا تھا۔ مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بدر کے مقام پر اس کا مقابلہ کیا۔ اس مقابلہ میں بہت سے مشرکین مارے گئے۔ انھیں میں ایک ابو جہل تھا۔ اس کو قتل بر بنائے شتم کا کیس قرار دینا بالکل بے معنی بات ہے۔ اسی طرح ابن تیمیہ نے دورِ اول کی کچھ مثالیں دے کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سب و شتم کی بنا پر قتل کرایا۔ مگر یہ سب غیر متعلق واقعات ہیں۔ ان میں سے کوئی قتل بھی مجرد شتم کی بنا پر نہیں کیا گیا۔ ان کے قتل کے اسباب دوسرے تھے۔ مثلاً میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مارا جانا، نقض عہد (غداری) کی بنا پر قابلِ قتل قرار پانا۔ وغیرہ۔ فقہ سے استدلال فقہاء عام طور پر یہ مسئلہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص پیغمبر خدا پر شتم کرے یا ان کے بارے میں گستاخی کے کلمات کہے تو اس کا لازماً قتل کر دیا جائے، خواہ شتم کرنے والا مسلم ہو یا کافر۔ ملاحظہ ہو:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader