Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اسلام مغربی لٹریچر میں

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اور سور دونوں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو کھا رہے ہیں۔ سور کی یہ روایت عوام میں بہت مقبول ہوئی اور قرآن میں سور کی حرمت کی بہت آسان توجیہ بن گئی (حالانکہ سور کی حرمت آپ کی وفات سے بہت پہلے کا واقعہ ہے ـــ دروغ گو را حافظہ نباشد، مترجم) ـــ اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تابوت زمین و آسمان کے درمیان فضا میں معلق ہے۔ اور لوگوں نے اس پر یقین کر لیا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں صلیبی جنگوں کے ذریعہ اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش جب نا کام ہو گئی تو مسیحی حلقہ میں ایک نیا رجحان ابھرا ـــ اسلام کو تبلیغ و تحریص کے ذریعہ تباہ کیا جائے۔ بے دخلی کی کوشش کی جگہ عقیدہ کی تبلیغ نے لے لی۔ مشنری تحریک وجود میں آئی کارملی رہبانوں کا حلقہ (Carmelite Friar Order) ایک صلیبی ہی نے (1154ء) ماونٹ کارمل پر قائم کیا تھا۔ اس صلیبی کا نام (Berthold) ہے۔ اس جماعت کے لوگ سفید چغہ پہنتے تھے، اسی لیے ان کو سفید پوش رہبان (White Friars) کہا جاتا ہے۔ (مترجم) فرانسس بیکن نے اس کی پیروی کی۔ 1219ء میں سینٹ فرانسس آف اسیی قاہرہ گئے اور فرانسس کن مشنری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ مگر اس دور کی سب سے بڑی مشنری تحریک ایک اسپینی تحریک تھی، جوری منڈلل (Raymond Lull) نے شروع کی جس کا زمانہ 1315-1232ء ہے لُل نے روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusades) کے لیے بہت دانشمندانہ نقشے بنائے جس کا مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا۔ بحث و مناظره اور استدلال کے ذریعہ کا کامیاب ہونے کے بارے میں اس کا یقیناً آخر وقت تک قائم رہا۔ اس کی تیاری کے لیے اس نے عربی پڑھی اور اپنی خانقاہ میں اس کا درس دینا شروع کیا جو اس نے مرامر (Miramar) میں قائم کی تھی۔ اس کی عربی زبان اور اسلام سے اس کی واقفیت اس زمانہ میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی۔ مگر ٹیونس میں اس کی مشنری سرگرمیاں نا کام ہو گئیں ۔ توحید پرست مسلمانوں کے ذہن میں تثلیث کا عیسائی عقیدہ بٹھانے کی کوشش اتنی فضول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page