Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب الام للشافعی، شرح المنھاج، الروضة الندیة لصدیق حسن خان، الروض الباسم للشوکانی، کشف القناع عن متن الاقناع لمنصور بن یونس البھوتی، فقہ السنة للسید سابق، الفقہ علی المذاھب الاربعة، التشریع الجنائی الاسلامی لعبدالقادر عودہ) وغیرہ۔ علامہ ابن تیمیہ نے اپنی مفصل کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں اسی مسلک کو دلیل و شواہد سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ جمہور کا مسلک ہے۔ اور اس پر عام علماء اسلام کا اجماع ہے (صفحہ 5-4)۔ جن لوگوں کی نظر فقہ کی کتابوں پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ ان مسائل میں فقہاء زیادہ تر صرف رائے نقل کرتے ہیں، وہ اس کے دلائل بیان نہیں کرتے۔ ان مسائل میں فقہاء کا عام طریقہ یہ ہے کہ ابتداءً اگر ایک معروف عالم کسی معاملہ میں ایک فتویٰ دے دے تو بعد کے لوگ مزید تحقیق کے بغیر بس اسی کو قتل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ دعوی کر دیا جاتا ہے کہ اس پر فقہاء علماء کا اجماع ہے۔ حالانکہ یہ زیادہ تر مقلدانہ اتفاق رائے ہوتا ہے، نہ کہ حقیقتاً علمی اور شرعی تعریف کے مطابق اجماع۔ اجماع کو متفقہ طور پر چہار ادلہ شرعیہ میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم قتل شاتم کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس پر علماء امت کا اجماع ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ جمہور علماء نے اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی مسئلہ کے بارے میں مختلف زمانوں کے علماء و فقہاء جو رائیں دیتے رہے ہوں، ان میں عمومی یکسانیت پائی جائے۔ اس کو جمہور کا اتفاق رائے کہا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر، اھل علم کی اکثریت کی رائے۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو اجماع کہا جاتا ہے۔ بیضاوی نے منہاج الاصول میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page