Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

اجماع کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ معاملات میں سے کسی معاملہ میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعقد کے اتفاق رائے کا نام ہے: ”وَهُوَ اتِّفَاقُ أَهْلِ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَمْرٍ مِنَ الْأُمُورِ“ (منہاج الاصول، جلد 1، صفحہ 37)۔ اجماع کے برحق ہونے پر اسلام کے شورائی حکم سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مثلاً اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے کہ معاملات میں لوگوں سے مشورہ لو: وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (3:159)۔ اس آیت کو اصول اجماع کا ماخذ قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ مشورہ بھی اجماع کا ایک ضروری جز ء ہے۔ اجماع حقیقتاً وہ ہے جو علمائے امت کے باہمی مشورہ کے بعد سامنے آئے۔ اس لحاظ سے اجماع کی شرط لازم اجتماع ہے۔ کیونکہ باہمی مشورہ سے کسی متفقہ رائے پر پہنچنا صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ تمام متعلقہ افراد کسی ایک مقام پر جمع ہوں اور آپس میں بحث و گفتگو کے بعد ایک رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ قتل شاتم کے مسئلہ پر پوری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ علماء اور فقہاء کا ایک مقام پر اجتماع ہوا ہو اور وہاں باہمی مشورہ کے بعد ایک متفقہ فیصلہ کیا جائے۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس مسئلہ پر علماء و فقہاء کا اجماع ہے۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس مسئلہ میں جمہور (اکثریت) کی رائے یہی ہے کہ شاتم کو قتل کر دیا جائے۔ مذکورہ نوعیت کے اتفاق رائے کو اگر اجماع کہا جائے تو وہ مجازی طور پر ہوگا، نہ کہ حقیقی طور پر۔ تاہم ان بحثوں سے قطع نظر، دونہایت اہم واقعہ اس مفروضہ اجماع سے ٹکراتا ہے۔ ایک یہ کہ سارے قرآن اور سارے ذخیرہ حدیث میں کوئی بھی ایسی نص موجود نہیں جس میں صراحتاً یہ حکم دیا گیا ہو کہ جو شخص گستاخی یا شتم کا فعل کرے اس کو فوراً قتل کر دو۔ اس کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان۔ پورا قرآن اور تمام کتب حدیث اس طرح کے کسی صریح حکم سے خالی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ، اپنی تمام تر شہرت کے باوجود، صرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page