فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
قیاسی یا استنباطی ہے، وہ کسی نص صریح سے براہ راست طور پر ماخوذنہیں۔ دوسری بات یہ کہ علماء اور فقہاء کے حوالے سے جو مسئلہ بیان کیا جاتا ہے، وہ صرف پیغمبر اسلام کے لیے نہیں ہے۔ وہ خدا اور ملائکہ اور پیغمبر اسلام اور دوسرے تمام پیغمبروں کے لیے یکساں طور پر عام ہے، اس فقہی مسئلہ کے مطابق، اصلی اور پورا حکم یہ ہے کہ جو شخص بھی، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے بارے میں گستاخی کے کلمات کہے، یا دین خدا پر کسی قسم کا عیب لگائے، تو اس کو بطور حد قتل کر دیا جائے۔ اس کے بعد اس کو ہرگز زندہ نہ چھوڑا جائے، خواہ اس نے اپنے فعل سے توبہ کر لیا ہو۔ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں کئی جگہ یہ بات لکھی ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ کوئی ذمی اگر رسول کو برا کہے یا اللہ کو برا کہے یا اسلام پر عیب لگائے اور ہمارے دین پر طعن کرے تو اس کا قتل واجب ہو جائے گا: ”اَنَّ الذِّمِّيَّ إِذَا سَبَّ اللَّهَ أَوْ عَآبَ الْإِسْلَامَ... وَطَعَنَ فِي دِينِنَا فَيَجِبُ قَتْلُهُ بِنَصِّ الْآيَةِ“ (صفحہ 17)۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ آپ اس شخص کا خون مباح کر دیتے تھے جو اللہ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچائے اور دین میں طعن کرے: ”وَهَذَا كَانَتْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ كَانَ يُهْدِرُ دِمَاءَ مَنْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَطَعَنَ فِي الدِّينِ“ (صفحہ 16)۔ واضح ہو کہ ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ ”یہ رسول اللہ کی سنت تھی“ صحیح نہیں۔ یہ محض تعمیم (generalization) ہے۔ انھوں نے بعض استثنائی واقعہ کو عمومی واقعہ کے طور پر بیان کر دیا ہے۔ اس نکتہ کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔ ابن تیمیہ نے ایک حدیث قدسی کو نقل کیا ہے کہ اللہ کہتا انسان مجھ کو تکلیف دیتا ہے، یعنی وہ زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے اور میں ہی زمانہ ہوں: يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader