Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

وَأَنَا الدَّهْرُ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 4826 ) ۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ خدا اور رسول کو ایذاء پہنچانا، خواہ قلیل ہو یا خفیف ہر حال میں موجب قتل ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق طور پر اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچانے کو سبب قتل قرار دیا : ”فَإِنَّهُ جَعَلَ مُطْلَقَ أَذَى اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ مُوجِبًا لِقَتْلِ رَجُلٍ مُعَاهَدٍ “ ( صفحہ 73 ) ۔ دوسری جگہ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر سب وشتم کرے اور اگر مسلم ہے تو اس کا قتل واجب ہے : ” مَنْ سَبَّ اللَّهَ تَعَالَى فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا وَجَبَ قَتْلُهُ “ ( صفحہ 550 ) ۔ ایک حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ ایک دلیل ہے جو اس کو واجب قرار دیتی ہے کہ نبیوں میں سے کسی نبی پر جو شخص سب وشتم کرے اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس حکم کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ وہ تو بہ طلب کیئے بغیر قتل کر دیا جائے گا، اور اس کا قتل بطور حد ہے : ”فَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ قَتْلِ مَنْ سَبَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَظَاهِرُهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُقْتَلُ مِنْ غَيْرِ اسْتِتَابَةٍ، وَأَنَّ الْقَتْلَ حَدُّلَهُ “ ( صفحہ 92 ) ۔ یہ حدیث اگرچہ خود ابن تیمیہ کے اقرار کے مطابق ضعیف ہے۔ مگر موجودہ بحث کے اعتبار سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ابن تیمیہ نے اس کا حوالہ دے کر جس مسلک کو اختیار کیا ہے، وہ یہی ہے کہ کسی بھی پیغمبر پر شتم کرنے والے کو فورا قتل کر دیا جائے گا۔ ابن تیمیہ ایک فصل کے تحت لکھتے ہیں کہ تمام پیغمبروں پر سب وشتم کرنے کا وہی حکم ہے جو ہمارے پیغمبر پر سب وشتم کرنے کا حکم ہے۔ یعنی ان سب پر سب وشتم کرنے والا کافر ہے، اور ایسے شخص کا خون حلال ہے: ” الحُكْمُ فِي سَبِّ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ كَالْحُكْمِ فِي سَبِّ نَبِيِّنَا ... أَنَّ سَابَهُمْ كَافِرٌ مُحَارِبٌ حَلَالُ الدَّمِ “ ( صفحہ 71-570 ) ۔ عبد القادر عودہ لکھتے ہیں کہ پیغمبروں اور فرشتوں کا استہزاء کرنے کے بارے میں فقہاء کی دو رائےیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایسے شخص کو بطور حد قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page