فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
جائیگی۔ دوسری رائے یہ کہ ایسا شخص مرتد ہے، اس کی تو بہ قبول کی جائے گی۔ لیکن اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو اس کی تو بہ قبول نہ ہوگی: ”سَبُّ الرُّسُلِ وَالمَلَائِكَةِ وَالِاسْتِهزَاءُ بِهِمْ، وَفِي الْمَذْهَبِ رَأْيَانِ: أَحَدُهُمَا: يَرَى الْقَتْلَ حَدًّا فَلَا تُقْبَلُ التَّوْبَةُ. وَالثَّانِي: يَرَى أَنَّهُ مُرْتَدٌّ يُقْتَلُ لِلرِّدَّةِ فَتُقْبَلُ تَوْبَتُهُ. مَنْ تَكَرَّرَتْ رِدَّتُهُ فَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ“ (التشريع الجنائی، جلد 2، صفحہ 27-726)۔ حکم کی اس عمومی نوعیت کے اعتبار سے دیکھیے تو انسانی آبادی میں شاذ و نادر ہی کچھ ایسے خوش قسمت افراد ملیں گے جو اس حکم کی زد میں نہ آتے ہوں۔ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت کسی نہ کسی اعتبار سے اس حکم عام کی گرفت میں آجائے گی ۔ حتی کہ یہ فہرست اتنی لمبی ہو سکتی ہے کہ سب کے سب انسان قابل قتل قرار پائیں، اور پھر یہ حکم عملی طور پر کالعدم ہو جائے، کیونکہ جب سارے افراد قابل قتل ہوں تو وہ کون ہوگا جو ان لوگوں کے خلاف اٹھے۔ اور کون ہوگا جو انھیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کرے۔ فقہاء نے ایک طرف شتم بطور حد (لازمی طور پر) قتل قرار دی ہے۔ اور دوسری طرف شتم کی ایسی تعریف کی ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی اعتبار سے شتم قرار پاتا ہے۔ اس تعریف کے مطابق ، استہزاء کرنا، تنقیص کرنا، عیب لگانا، اہانت کرنا، گستاخی کرنا، لمز کرنا، ایذا رسانی کرنا، خوض اور لعب کے تحت کچھ کہنا، سب کا سب شتم میں داخل ہے۔ اس کے مطابق، نہ صرف مذمم اور ابتر اور غیر عادل جیسے الفاظ بولنا سب وشتم ہے بلکہ رسول کی دی ہوئی خبر کی اشاراتی تحقیر کرنا بھی سب وشتم میں داخل ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ کیا ان صاحب کا خیال ہے کہ روم کے محل اور قلعے فتح ہوں گے: ”أَيَظُنُّ هَذَا أَنْ يُفْتَحَ قُصُورُ الرُّوْمِ وَحُصُونُهَا؟“ (صفحہ 34-33)۔ موجودہ صورت میں یہ مسئلہ کس قدر سنگین ہے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہاں چند

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader