فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يُؤْذِينِی ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4826) ۔ یعنی انسان مجھ کو ایذا پہنچاتا ہے، وہ زمانہ کو برا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں۔ ایک اور روایت کے مطابق، یہ بھی اللہ کو برا کہنا ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ نے اپنا بیٹا لیا ہے، جیسا کہ مشرکین فرشتوں کے بارے میں کہتے ہیں اور مسیحی حضرت عیسیٰ کے بارے میں۔ اس حدیث میں جس قسم کی باتوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کو ایذا پہنچاتا ہے، وہ بہت عام ہیں، اس کے مطابق ہر دور کے بیشتر انسان اللہ کا سب وشتم کرنے کے جرم میں مرتکب قرار پاتے ہیں۔ تمام مشرکین، تمام عیسائی، اور جدید تعلیم پائے ہوئے بیشتر لوگ مجرمین کے اس زمرہ میں داخل ہیں۔ اس لیے مذکورہ فقہی مسئلہ کے مطابق، سب کے سب اس قابل ہیں کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ یہی معاملہ سب انبیاء کا بھی ہے، مثلاً یہودی بحیثیت ایک قوم حضرت مسیح علیہ السلام کو، نعوذ باللہ، ولد الزنا کہتے ہیں۔ اسی طرح عیسائی لوگ، جو دنیا میں سب سے بڑا مذہبی فرقہ ہیں، وہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جھوٹا پیغمبر (False Prophet) قرار دیتے ہیں۔ اب مذکورہ مسئلہ کے مطابق، دنیا بھر کے تمام یہودی اور تمام عیسائی واجب القتل ہیں۔ ان سب کو جمع کر کے ایک ایک شخص کی گردن مار دینا چاہیے۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی صفات میں سے کسی صفت میں غیر خدا کو شریک کرتے ہیں۔ اس گروہ میں معروف مشرکوں کے علاوہ بہت سے قبر پرست اور اکابر پرست مسلمان بھی شامل ہیں، وہ سب کے سب خدا کی تنقیص کرنے کے مجرم ہیں۔ وہ غیر اللہ کے لیے ایسے کلمات بولتے ہیں جو اللہ کو ایذا پہنچانے کی تعریف میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader