فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
آتے ہیں، مذکورہ مسئلہ کے مطابق، یہ تمام لوگ بھی اس قابل ہیں کہ انھیں قتل کر دیا جائے۔ ان میں سے کوئی شخص بھی زندہ چھوڑے جانے کا مستحق نہیں۔ سب وشتم کی بنیاد پر قابل قتل افراد کی یہ فہرست یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اس کا سلسلہ خود آیت اللہ خمینی اور ان کے متبعین تک جاتا ہے جو سلمان رشدی کو قتل کر کے اس کو’’جہنم رسید‘‘کرنے کے چیمپن بنے تھے۔ خمینی کی ولایت فقیہ کا عقیدہ اور دوسرے شیعی عقائد، سنی علماء کے فتووؤں کے مطابق، خدا کی بھی توہین ہیں اور خدا کے رسول کی بھی توہین۔ ایسی حالت میں اہل اسلام پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ امام خمینی اور ان کے ہم خیال تمام لوگوں کو پکڑ پکڑ کر قتل کر ڈالیں، ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں۔ واضح ہو کہ یہ راقم الحروف کا نظریہ نہیں۔ مگر ’’قتل شاتم‘‘ کے نظریہ کی وکالت کرنے والوں کے نظریہ کا لازمی تقاضا یہی ہے۔ جیسا کہ اوپر کے حوالہ سے واضح ہے، دین پر عیب لگانا یا اس پر طعن کرنا بھی جرم ہے جس پر آدمی کا قتل واجب ہو جاتا ہے۔ اس حکم کی روشنی میں موجودہ حالات کو دیکھیے تو آج یہ چیز بے حد عام ہو چکی ہے۔ آج کا وہ طبقہ جس کو جدید تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے، وہ تقریباً 99 فی صد اس جرم کا مجرم قرار پاتا ہے۔ تمام سوشلسٹ اور کمیونسٹ حضرات اس کے مطابق مجرم ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مذہب ایک ذہنی افیون ہے۔ بقیہ لوگ بظاہر ایسے الفاظ نہیں بولتے۔ تاہم وہ بھی مہذب الفاظ میں وہی بات کہتے ہیں جس کو کمیونسٹ لوگ برہنہ الفاظ میں کہہ رہے ہیں۔ اس طرح مذکورہ مسئلہ کے مطابق، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی تقریباً 99 فی صد تعداد اس قابل ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے یا گولی مار کر اس کو ہلاک کر دیا جائے۔ مزید یہ کہ اس نظریہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سب وشتم کی سزا کے نفاذ کے لیے کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader