فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت یا کسی عدالتی کاروائی کی ضرورت نہیں۔" اسلامی حکومت اگر یہ سزا نافذ نہ کر رہی ہو تو کوئی بھی مسلمان اس کو نافذ کر سکتا ہے، اور ایسے شخص کے بطور خود قتل کر سکتا ہے۔“ راقم الحروف کے نزدیک یہ نظریہ سراسر لغو ہے۔ تاہم قتل شاتم کے حامیوں کے نزدیک مسئلہ کی نوعیت یہی ہے۔ شتم کے معاملہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک عجیب تضاد میں مبتلا ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب مسئلہ بیان کرنا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر پر سب وشتم کرنا یکساں طور پر جرم ہے۔ وہ ایسے ہر شاتم کو واجب القتل قرار دیتا ہے۔ مگر عملی اعتبار سے ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اپنے پیغمبر کے سب وشتم پر بھڑکتے ہیں۔ جہاں تک دوسرے پیغمبروں کا تعلق ہے، ان کے خلاف خواہ کسی بھی قسم کی گستاخی کی جائے، ان کے اندر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی بے شمار تصویریں بنائی گئی ہیں، وہ کروروں کی تعداد میں کتابوں اور گھروں وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مگر اس تصویر سازی پر مسلمانوں کے اندر کوئی اشتعال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اپنے پیغمبر کے بارے میں اگر صرف دور کی ایک خبر سن لیں تو فوراً مشتعل ہو کر آمادہ فساد ہو جائیں گے۔ اسی طرح دوسرے پیغمبروں کے بارے میں بے شمار گستاخانہ باتیں بولی اور چھاپی جا رہی ہیں۔ مگر مسلمانوں کو اس بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ وہ صرف اس وقت مضطرب ہوتے ہیں جب کہ اس بری خبر کا تعلق ان کے اپنے پیغمبر سے ہو۔ یہ معاملہ یہاں تک پہنچا ہے کہ نہ صرف اغیار بلکہ مسلمان خود بھی اپنے پیغمبر کی تعظیم اور دوسرے پیغمبروں کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں، اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ہندو یا عیسائی یا یہودی یہ لکھ دے کہ ” مکہ وہ بستی ہے جس کو چھوڑ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader