Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت محمد بھاگے تھے تو تمام مسلمان پھر اٹھیں گے اور اس کتاب کو جلانا شروع کر دیں گے جس میں ہجرت کے لیے بھاگنے کا لفظ لکھا گیا ہے۔ مگر خود ان کا ایک شخص لکھتا ہے کہ ”یہ وہی بستی ہے جس کو چھوڑ کر یونس علیہ السلام بھاگے تھے“ (تفہیم القرآن، جلد 4، صفحہ 309) تو مسلمانوں کے اندر اس گستاخی پر کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ روش خدا کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کے ہم معنی ہے۔ اور جو لوگ رسولوں کے درمیان تفریق کریں، وہ ایک کے ساتھ کچھ معاملہ کریں اور دوسرے کے ساتھ کچھ، وہ اللہ کے یہاں سزا کے مستحق ہیں، نہ کہ انعام کے مستحق۔ حقیقت یہ ہے کہ ”قتل شاتم“ کا مذکورہ مسئلہ نا قابل فہم حد تک بے اصل مسئلہ ہے۔ اس کے لیے کتاب و سنت میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ اور نہ اسلام کی تاریخ میں، آغاز سے لے کر اب تک، کبھی اس کو عملی طور پر اختیار کیا گیا۔ اور نہ امکانی طور پر اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ مسئلہ کو سامنے رکھیے اور اسلام کی تاریخ کو دیکھیے، تو معلوم ہوگا کہ ساری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب میں جو عیسائی تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ساختہ نبی کہتے تھے۔ یہودی دہرامجرم تھے، کیونکہ وہ پیغمبر اسلام کو بھی تحقیر کرتے تھے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی بھی۔ اس وقت وہاں جو مشرکین تھے، وہ پیغمبر کی توہین و تحقیر کے علاوہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس طرح ان کا جرم اور بھی زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو قدیم عرب کی آبادی میں کم از کم 95 فی صد لوگ ایسے تھے، جو کسی نہ کسی قسم کے شتم یا ایذارسانی کے مرتکب ہو رہے تھے۔ اب شرعی مسئلہ یہی ہے کہ ایسے لوگوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page