فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
کو بے دریغ قتل کر دیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے تھا کہ عرب کی بیشتر آبادی کو تہ تیغ کر ڈالتے۔ اور جب یہ قتل بطور حد تھا تو از روئے مسئلہ آپ ان کو معاف نہیں کر سکتے تھے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوں تو جزیرہ نما عرب میں چاروں طرف قبروں کے سوا کوئی اور منظر دکھائی نہ دے، بشرطیکہ وہاں کوئی دیکھنے والا بھی زندہ حالت میں موجود ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانہ میں بھی ہمیشہ یہی صورت حال کم و بیش جاری رہی۔ سب وشتم کا جو عمومی مفہوم فقہاء نے بیان کیا ہے، اس کے لحاظ سے دوبارہ دنیا کی آبادی کا کم از کم 95 فی صد کسی نہ کسی اعتبار سے خدا یا پیغمبر اسلام یا دوسرے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کی تنقیص اور گستاخی کے جرم کا مرتکب ہو رہا تھا۔ اس لیے دوبارہ یہی عمل ساری دنیا میں جاری ہونا چاہیے تھا کہ دنیا کی آبادی کے بیشتر حصہ کو قتل کر دیا جائے۔ یہاں تک کہ زمین کے اوپر تہمین کی قبروں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم حق کے داعی تھے، آپ کا کام شاتم کو سزا دینا نہ تھا، آپ کا اصل کام شاتم کو مومن بنانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آپ کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو رحمت عالم کا لقب دیا تھا۔ مگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کا نام تاریخ میں نعوذ باللہ قاتل عالم کی حیثیت سے درج کیا جائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس عرصہ میں بعض استثنائی افراد ضرور قتل کیے گئے ہیں جن کے ساتھ دوسرے اسباب، مثلاً نقض عہد (غداری اور بغاوت) کا جرم شامل تھا۔ مگر مجرد لفظی ایذارسانی کی بنیاد پر اس قسم کے قتل عام کا نہ کبھی کسی عالم نے نام زد فتویٰ دیا اور نہ کبھی کسی حاکم نے اس پر عمل درآمد کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader