فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض افراد جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر قتل کرا دیا، یا جن سے جنگ کی وہ براہِ راست خدائی حکم سے تھا جو صرف پیغمبر کے لیے خاص ہوتا ہے۔ تمام پیغمبروں کے لیے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جب ان پر خدا کا پیغمبر اتمام حجت کر دے تو اس کے بعد ان کے لیے زمین پر زندہ رہنے کا حق باقی نہ رہے۔ پچھلے پیغمبروں کی مخاطب قوموں کے ساتھ اس سنت الہی کا ظہور زیادہ تر اس طرح ہوا کہ سمندر یا طوفان یا زلزلہ جیسی قدرتی آفات کے ذریعہ انھیں تباہ کر دیا گیا (العنكبوت 40:29)۔ مگر مخصوص مصالح کی بنا پر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی مخاطب قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوا کہ خود اہل ایمان کے ذریعہ اس پر اس خدائی سزا کا نفاذ کیا جائے: قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ (9:14)۔ یعنی، ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا۔ اس نوعیت کا قتل یا قتال انتہائی استثنائی معاملہ تھا۔ اس کا تعلق خصوصی طور پر صرف پیغمبر سے ہے۔ وہ پیغمبرانہ اتمام حجت کے مسئلے سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ سادہ طور پر گستاخی اور بدزبانی کے مسئلے سے۔ پیغمبر کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کا حوالہ دے کر اپنے زمانہ کے لوگوں کو قتل کرنے لگے۔ بعد کے لوگوں کو صرف دعوت دینا ہے اور بقیہ تمام باتوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور ملائکہ اور انبیاء کے خلاف گستاخی کرنا یا دین پر عیب لگانا، ایک اعتراض ہے، نہ کہ سادہ معنوں میں محض ایک جرم۔ عام قسم کے سماجی یا اخلاقی جرم کا توڑ جسمانی سزا کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے، مگر ایک فعل جو اعتراض اور تنقید کی نوعیت کا ہو، اس کا دفعیہ صرف جسمانی سزا کے ذریعہ ممکن نہیں۔ اس کا واحد توڑ یا دفعیہ یہ ہے کہ اس کو دلائل سے رد کیا جائے۔ معترض کے الفاظ کے مقابلہ میں زیادہ طاقتور الفاظ سے اس کو بے حقیقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader