Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت کر دیا جائے۔ ان واضح اسباب کی بنا پر راقم الحروف کی قطعی رائے ہے کہ قتلِ شاتم کے بارے میں ’’جمہور فقہاء‘‘ کا جو مسلک نقل کیا جاتا ہے، وہ یا تو اس معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگ اس کو لے رہے ہیں۔ اور بالفرض اگر وہ اس معنی میں ہو تب بھی وہ یقینی طور پر قابلِ لحاظ نہیں۔ یہ مسئلہ دین میں ایک ایسا اضافہ ہے جس کے لیے نہ قرآن وحدیث میں کوئی صریح نص موجود ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کی تصدیق ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس مسئلہ کو بجنسہ ماننے کی صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری اسلامی تاریخ میں تمام علماء اور سلاطین مسلسل اس شرعی حکم کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خلاف ورزی کرنے والوں کی اس لمبی فہرست میں، نعوذ باللہ، خود رسول اور اصحابِ رسول بھی شامل ہیں۔ قرآن وسنت سے اس نظریہ کی عدم مطابقت اتنی واضح ہے کہ خود ابن تیمیہ کو اس کا پورا احساس ہے۔ چنانچہ اپنی 600 صفحہ کی کتاب (الصارم المسلول علی شاتم الرسول) میں انھوں نے جگہ جگہ اس کا جواب دیا ہے اور یہ توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے مفروضہ شرعی مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں عمل نہیں فرمایا۔ کیونکہ آپ نے ایسا کیا کہ بے شمار گستاخی کرنے والوں کو سزا دیے بغیر چھوڑ دیا۔ مگر ان کی یہ نام نہاد توجیہات ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کا مصداق ہیں۔ مثلاً کتاب میں وہ ایک جگہ مدینہ کے بعض منافقین کا ذکر کرتے ہیں۔ ان منافقین نے مبینہ طور پر رسول کا استہزاء کیا تھا۔ اس کے باوجود انھیں قتل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ ان لوگوں پر استہزاء کی حد اس لیے جاری نہیں کی گئی، کیونکہ اس وقت تک منافقین کے خلاف جہاد فرض نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ آپ کو یہ حکم تھا کہ ان کی ایذارسانی کو نظر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page