فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
مَأْمُوراً بِأَنْ يَدْعُ أَذَاهُمْ، وَلِأَنَّهُ كَانَ لَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَمَّنْ تَنَقَّصَهُ وَآذَاهُ‘‘ (صفحہ 34)۔ ابن تیمیہ کے اس بیان کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم تھا کہ وہ منافقین کی تنقیص اور ایذارسانی پر اعراض کریں اور ان کو معاف کر دیں۔ لیکن ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ یہ وقتی حکم تھا جو بعد کو منسوخ ہو گیا۔ مگر صرف اتنا کہنا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ ابن تیمیہ کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ یہ حکم کب منسوخ کیا گیا۔ حدیث اور سیرت سے تو یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر وقت تک ان منافق افراد کا قتل عام نہیں کرایا جو آپ کے خلاف استہزاء اور گستاخی کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی اتری اور آپ نے اپنے عمل سے جو نمونہ پیش فرمایا۔ اس کے مطابق عفو و اعراض کا یہ حکم آخر تک باقی رہا۔ وہ کبھی منسوخ نہیں کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب قرآن وسنت سے اس حکم کی منسوخی ثابت نہیں تو پھر دوسرا کون سا ذریعہ ہے جس سے ابن تیمیہ کو معلوم ہوا کہ یہ حکم اب منسوخ ہو چکا ہے۔ کیا محمد بن عبد اللہ کے بعد کوئی اور پیغمبر آیا ہے جس نے انھیں یہ خبر دی کہ عفو و اعراض کا حکم اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اب تم لوگ ایسے تمام افراد کو چن چن کر قتل کر ڈالو۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو ابن تیمیہ کو اور ان کے تمام ہم خیال لوگوں کو وہی کہنا چاہیے اور کرنا چاہیے جس کا نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ نہ کہ خود ساختہ تاویلَات کے ذریعہ اس کو منسوخ قرار دیں اور پھر ایک ایسے عمل کی وکالت کریں جس کا براہ راست ثبوت نہ قرآن میں ہے، نہ رسول کے قول وعمل میں۔ ان کے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader