Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ
فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
نظریہ کی بنیاد قیاس پر ہے، اور قیاس اس طرح کے معاملہ میں حجت نہیں۔ چنانچہ ہر زمانہ میں ایسے محقق علماء موجود رہے ہیں۔ جنھوں نے اس کے خلاف رائے دی ۔ سفیان الثوری (97-161ھ) کو "سَیِّدُ أَهْلِ زَمَانِهِ فِي عُلُومِ الدِّينِ وَالتَّقْوَىٰ" (دینی علوم اور تقویٰ میں اپنے زمانے کے پیشوا) کہا جاتا ہے۔ مرتد کے بارے میں ان کا قول ہے کہ يُسْتَتَابُ أَبَدًا، وَلَا يُقْتَلُ (مصنف عبدالرزاق: 18697، محلی ابن حزم، جلد 12، صفحہ 109)۔ یعنی اس سے ہمیشہ توبہ کے لیے کہا جائے گا، اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہی حکم شاتم کا بھی ہے، کیونکہ شاتم کا حکم حدیثِ ارتداد ہی سے اخذ کیا جاتا ہے۔ کے خلاف اور ان کے درمیان میں ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader