Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعات بتاتے ہیں کہ جس طرح دوسرے نبیوں کا استہزاء کیا گیا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی استہزاء کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بے شمار واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب آپ کے ساتھ استہزاء اور اہانت کا معاملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں آپ نے کیا کیا۔ تا کہ آپ کے بعد جب اس قسم کے واقعات پیش آئیں تو ہم اس معاملہ میں اسی اسوۂ نبوی کو اختیار کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ اور یقیناً اس معاملہ میں بھی ہمیں اسی نمونہ کو اختیار کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی عمل سے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس نوعیت کے جو واقعات ہیں ، ان کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ نے ان واقعات کو مسئلہ کی نظر سے دیکھا ، نہ کہ سادہ طور پر محض گستاخی کی نظر سے۔ کسی واقعہ کو مسئلہ کی نظر سے دیکھا جائے تو اس سے حل تلاش کرنے کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کو گستاخی کی نظر سے دیکھیے تو صرف انتقام کا جذبہ ابھرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے اس طرح کے واقعات کو کبھی گستاخی اور توہین کی نظر سے نہیں دیکھا اور نہ کبھی ان کا انتقام لینے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں آپ کی کئی سنتیں ہمیں ملتی ہیں۔ اور یہ بالکل فطری ہے۔ کیونکہ جب مسئلہ کو حل کرنے کی نظر سے دیکھا جائے تو حالات کے اعتبار سے لازما اس کے طریقے مختلف ہو جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page