فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں سب سے پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ " گستاخی “ کے واقعات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلمان مستقل اور مسلسل طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یعنی گستاخ آدمی کے خلاف شور و غل اور ایجی ٹیشن کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بار بار گستاخی اور اذیت رسانی کے واقعات پیش آئے، مگر ایک بار بھی آپ نے ان کے خلاف عمومی احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ گستاخی کی بات کو عوامی ایجی ٹیشن کا موضوع بنانا خود گستاخ شخص کے ساتھ تعاون کرنے کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ اس طرح اس کی بات مزید پھیلتی ہے، وہ مزید شہرت حاصل کرتی ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں عوامی ایجی ٹیشن کا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ہے۔ اس کی ایک مثال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses) کا معاملہ ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ایک بے ہودہ کتاب ہے۔ عام حالات میں اس کو بمشکل چند ہزار آدمی پڑھتے۔ مگر مسلمانوں کے ناقابل فہم حد تک بے معنی ایجی ٹیشن کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انگریزی کتابوں کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب (Best Seller) بن گئی۔ نیو یارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا (17 مارچ 1989) میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ نیو یارک ٹائمز کے جائزے کے مطابق موجودہ ناولوں میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب شیطانی آیت ہے: "'Satanic Verses' has become the no. 1 book on The New York Times best-seller list of hard cover fiction." ٹائم میگزین نے اپنے شمارہ 27 فروری 1989 میں رشدی کی کتاب کے بارے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader