فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کو پڑھ کر ٹائم کے دفتر میں 240 خطوط آئے۔ ان میں سے ایک خط مارگریٹ ڈورٹیز (Margareta du Rietz) کا تھا۔ انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس کتاب کی طرف توجہ کی تھی۔ مگر خمینی کا بھلا ہو، اب وہ ایک عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے۔ "Very few took note of this novel. Now, thanks to Khomeini, it is world famous." سلمان رشدی نے اپنے بے ہودہ خیالات صرف اپنی کتاب میں لکھے تھے۔ مگر مسلمانوں کے شور وغل کا نتیجہ یہ ہوا اس کی باتیں تمام دنیا کے اخبارات ورسائل میں چھپیں۔ بے شمار لوگ غیر ضروری طور پر اس کی کتاب کو پڑھنے کے شائق ہو گئے۔ اب امریکا میں 20 زبانوں میں اس کتاب کا ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے تا کہ جو لوگ انگریزی نہیں جانتے وہ بھی اس "شہرت یافتہ کتاب کو پڑھ سکیں۔ مسلمانوں کے اس احمقانہ اقدام کا آخری احمقانہ نتیجہ یہ ہے کہ "سلمان رشدی کو قتل کرو" کے نام پر جو ہنگامہ کھڑا کیا گیا، اس میں خود مسلمان درجنوں کی تعداد میں قتل اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو گئے۔ اور خود سلمان رشدی ادبی ہیرو بن کر برطانیہ کی شاہی حفاظت میں بیٹھا ہوا ہے۔ 2- اہانتِ رسول کے اس طرح کے واقعات پر مسلم رہنمائوں کی طرف سے جو بیانات دیے جاتے ہیں، ان میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یہ سراسر ایک غیر اسلامی جملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مواقع پر کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ مزید یہ کہ اسلام کے ” کریمنل کوڈ‘‘ میں ایسی کوئی دفعہ نہیں ہے جس میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہو اور اس پر موت کی سزا مقرر کی جائے۔ یہ بلاشبہ شریعتِ اسلامی میں ایک اضافہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader