فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کو ایک قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا جائے ۔ اس قسم کے بیانات دینا سب سے پہلے دینے والے کو مجرم ثابت کرتا ہے ، نہ کہ گستاخی کرنے والے کو۔ 3۔ سلمان رشدی کے سلسلہ میں مسلم رہنماؤں کی طرف سے جو بیانات شائع ہوئے ہیں ان میں عام طور پر ’’ جہنم رسید‘‘ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ہر بیان با لیڈر جوش وخروش کے ساتھ یہ اعلان کر رہا ہے کہ سلمان رشدی کے جرم کے نتیجہ میں اس کو جلد از جلد جہنم رسید کیا جائے۔ مسلم رہنماؤں کے یہ الفاظ سرکشی اور بغاوت کے ہم معنی ہیں۔ کیونکہ جہنم رسید کرنے کا اختیار صرف خدا کو ہے، نہ کہ کسی انسان کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے کافروں اور مشرکوں اور منافقوں نے آپ کے خلاف بدترین قسم کے جرائم کیے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ بولیں کہ فلاں شخص کو قتل کر کے اس کو جہنم رسید کرو۔ ایسے الفاظ بولنا گویا اپنے آپ کو خدا کی سیٹ پر بٹھانا ہے۔ رشدی نے اگر پیغمبر کی ذات پر حملہ کیا ہے تو ایسے جملے خود خدا کی ذات پر حملہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ اب ایسے لوگ خود سوچیں کہ دونوں میں سے کون سا جرم زیادہ بڑا ہے۔ 4۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملات میں پیغمبر کا طریقہ ’’ گستاخی‘‘ کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے کا نہ تھا بلکہ مسئلہ کو حل کرنے کا تھا۔ چنانچہ حالات کے اعتبار سے آپ نے اس کے حل کے مختلف انداز اختیار کیے۔ ایک عام حل یہ تھا کہ ان کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اے پیغمبر! تم منکروں اور منافقوں کی بات نہ مانو۔ اور ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسہ کے لیے کافی ہے (48: 33)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader