فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
التفسیر المظہری میں اس آیت کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے اور قتادہ نے کہا کہ لوگ تم کو جو تکلیف دے رہے ہیں اس پر صبر کرو۔ مطلب یہ کہ ان کی ایذا رسانی سے صرف نظر کرو۔ اس کی پروانہ کرو، اور نہ اس سے ڈرو (”اجْعَلْ إِیْذَاءَهُمْ إِيَّاكَ فِي جَانِبٍ وَلَا تُبَالِ بِهِ وَلَا تَخَفْ مِنْهُ“)۔ زجاج نے کہا کہ ان سے بحث نہ کرو۔ ان کی باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ اور نہ تم خود انہیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کرو۔ اور اللہ پر بھروسہ کرو، وہ یقیناً تمہارے لیے کافی ہے (التفسیر المظہری، جلد 7، صفحہ 355)۔ یہی پیغمبرانہ سنت ہے جس کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا کہ باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر: ”اَمِیْتُو البَاطِلَ بِالْصَّمْتِ عَنْهُ“ (دیکھیے، حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء، جلد 1، صفحہ 55)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں باطل کی موت کے لیے یہ کافی ہوتا ہے کہ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی جائے۔ ایسا طریقہ اختیار کرنے کے بعد باطل اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ پھر جو سانپ لاٹھی کے بغیر مر سکتا ہو، اس کے لیے لاٹھی استعمال کرنے کی کیا ضرورت۔ 5۔ ایک طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ مخالفین کی باتوں کا جواب دلیل کی زبان میں دیا جائے۔ قدیم زمانہ میں شعر کو وہ مقام حاصل تھا جو موجودہ زمانہ میں صحافت کو حاصل ہے۔ صحافت موجودہ زمانہ میں کسی بات کو وسیع حلقہ میں پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ یہی کام قدیم زمانہ میں اشعار سے لیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے مخالفین اشعار کی صورت میں آپ کی مذمت کرتے تھے۔ مثال کے طور پرام جمیل نے آپ کے خلاف یہ اشعار کہے: مُذَمَّمًا عَصَيْنَا ... وَأَمْرَهُ أَبَيْنَا ... وَدِينَهُ قَلَيْنَا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 356)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader