Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی محمد مذمّت کیے ہوۓ ہیں ہم ان کا انکار کرتے ہیں۔ ہم ان کے حکم کو نہیں مانتے۔ اور ہم کو ان کے دین سے بغض ہے۔ مکہ میں آپ نے اس قسم کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، مدینہ آنے کے بعد اس طرح کے مواقع پر مسلمانوں کے شاعر حضرت حسّان بن ثابت شعر کا جواب شعر میں دیتے تھے۔ مثلاً ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں ایک مشرک عورت کا ذکر کیا ہے۔ جس نے اسلام اور اہلِ اسلام پر عیب لگاتے ہوۓ کچھ اشعار کہے(فَقَالَتْ، تَعِیبُ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ)۔ مذکورہ مشرکہ کے ہجو کے جواب میں حسّان بن ثابت نے اسی بحر میں کچھ اشعار کہے۔ یہ دونوں قسم کے اشعار ابن ہشام نے اپنی سیرت کی کتاب میں نقل کیا ہے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 637)۔ اسی طرح ایک موقع پر ایک جاہلی شاعر نے اسلام کے خلاف کچھ باتیں کہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسّان بن ثابت سے کہا کہ اے حسّان، اٹھو اور اس آدمی نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دو (قُمْ یَا حَسَّانُ، فَأَجِبِ الرَّجُلَ فِيمَا قَالَ. فَقَامَ حَسَّانُ)۔ چنانچہ حسان اٹھے اور انھوں نے برجستہ کچھ اشعار وضع کر کے مذکورہ شخص کا جواب دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 564)۔ 6۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین میں) عباس بن مرداس کو چند اونٹ دیے۔ یہ اونٹ اس کو کم معلوم ہوۓ۔ چنانچہ وہ غصہ ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے لگا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ میری طرف سے اس کی زبان کاٹ دو۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کو مزید اونٹ دیے یہاں تک کہ وہ راضی ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ تھا زبان کا کاٹنا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا: فَكَانَ ذَلِكَ قَطْعَ لِسَانِهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه علیه

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page