Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

وسلم (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 141)۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اصل مسئلہ ہجو گو کو سزا دینے کا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کی زبان بند کرنا ہوتا تھا۔ حالات کے اعتبار سے آپ اس کے لیے کوئی ایک یا دوسری تدبیر اختیار فرماتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کسی شخص کے متعلق یہ نظر آتا تھا کہ وہ مال پا کر چپ ہو جائے گا تو آپ اس کو مال دے کر اس کی زبان بندی فرماتے۔ 7۔ جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے مشرکین آپ کے سامنے لائے گئے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کا ایذارسانی کا فعل کیا تھا۔ لفظی استہزاء سے لے کر عملی جارحیت تک کوئی بھی ایسی برائی نہ تھی جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہ کی ہو۔ عام رواج کے مطابق ان سب کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ سب کو ایک طرف سے معاف کر دیا۔ اور فرمایا کہ جاؤ تم سب آزاد ہو: اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 18276)۔ راوی کہتے ہیں کہ مشرکین آپ کے پاس سے نکلے، گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں۔ اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گئے: فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنْ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 18275)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ اذیت پہنچانے والوں کے بارے میں کرنے کا ایک کام یہ ہے کہ انہیں معاف کر دیا جائے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب وہ پوری طرح اپنے قابو میں آچکے ہوں، اور ان کا جرم اتنا واضح ہو کہ خود عالمی رواج کے مطابق اس بات کا پورا حق حاصل ہو کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معافی کے بعد ان دشمنوں کا اسلام قبول کر لینا بتاتا ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page