اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
اسپین میں نام نہاد مورس(Moors) کے زوال کے بعد عثمانی ترک، دشمن مذہب (اسلام) کے علم بردار نظر آ رہے تھے۔ مارٹن لوتھر نے پہلے یہ خیال کیا کہ ترکوں کو مسیحیت کے گناہوں کی پاداش میں خدا کا بھیجا ہوا عذاب سمجھ کر گوارا کرنا چاہیے۔ مگر 1529ء میں جب ترک وائنا کے دروازوں تک پہنچ گئے تو اس نے اپنے ذہن کو بدل دیا اور یہ تبلیغ کی کہ ان کافروں کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ براہِ راست عربی زبان سے 1734 میں کیا گیا، اور اس کا مترجم جارج سیل (George Sale) تھا۔ سیل عیسائی علوم کی ترقی کے انجمن کا ایک رکن تھا اور اس نے شامی علما کی مدد سے عربی زبان سیکھی تھی۔ سیل کا ترجمہ انگریزی دنیا میں ڈیڑھ صدی تک چھایا رہا۔ سترہویں صدی میں ایک نیا سنگ میل پیدا ہوا جب آکسفرڈ یونیورسٹی نے عربی کی تعلیم کے لیے ایک نشست اپنے یہاں مخصوص کی۔ اور ایڈورڈ پوکاک (Edward Pocock) کو 1632 میں اس منصب پر مقرر کیا۔ پوکاک چھ سال تک شام میں پادری کی حیثیت سے رہ چکا تھا اور عربی میں دسترس اور اسلام کی براہِ راست معلومات حاصل کر چکا تھا۔ آکسفرڈ میں عربی شعبہ کے کھلنے سے یورپی عربی داں پیدا ہونے کا دروازہ کھل گیا۔ پوکاک خود غالباً اپنی صدی کا سب سے بڑا یورپی عربی داں تھا۔ اس نے متعدد کتا بیں تصنیف یا ایڈٹ کیں۔ اس نے اپنے قارئین کو یقین دلایا کہ معلق تابوت کا افسانہ مسلمانوں کے لیے ایک مضحکہ خیز بات ہے جس کو وہ صرف عیسائیوں کی ایجاد سمجھتے ہیں۔ اس نے مزید اس مروجہ کہانی کو چیلنج کیا کہ اسلام کے بانی نے ایک سفید کبوتر کو تربیت دے رکھا تھا۔ تا کہ وہ ان کے کندھے پر بیٹھا رہے اور کان کے اندر پڑے ہوئے دانے کو چکنے کے لیے کان میں چونچ مارتا رہے۔ اس سے وہ اپنے متبعین کو یہ یقین دلانا چاہتے تھے کہ کبوتر کے ذریعہ سے روح القدوس ان کو الہام کر رہا ہے۔ یہ افسانہ اس قدر مشہور ہوا کہ وہ انگریزی ادب میں شامل ہو گیا۔ چنانچہ شکسپیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader