اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ایک کردار کی زبان سے ہم سنتے ہیں: "We Mahomet inspired by a dove, Thou with an angle art inspired then." شکسپیئر سے بہت پہلے جان لڈ گیٹ اس کبوتر کا رنگ تک جانتا تھا۔ اس کے بیان کے مطابق کبوتر کا رنگ دودھیا سفید تھا۔ پھر یہ یقین یہاں تک بڑھا کہ اٹھارویں صدی کے ایک کبوتروں کے ماہر نے ایک خاص قسم کے کبوتر کا نام موممت (Maumet) رکھ دیا جو دراصل لفظ محمد کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کبوتر عیسائیوں کے یہاں تو روح القدس کی علامت ضرور ہے (لوقا 22:3)۔ مگر اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ اسی طرح مومٹ (Maumet) کا لفظ بت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ وہ شخص جس نے کعبہ میں سیکڑوں بتوں کو توڑا، جس کے پیرو فخر کرتے ہیں کہ وہی صرف حقیقت توحید پرست ہیں اور کسی قسم کے بت یا مورتی کو تسلیم نہیں کرتے، وہی شخص مغربی من گھڑت کہانیوں میں ایک خدا اور ایک بت بن گیا۔ قرون وسطیٰ کی انگریزی روایات میں مہون (Mahoun) بار بار پرستش کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ یہ مان لیا گیا تھا کہ ترکوں اور مسلمانوں کے یہاں اس کی پوجا ہوتی تھی۔ مومٹ کی طرح قرآن بھی الکرون (Alkaron) کے نام سے مسلمانوں کا ایک بت قرار پایا۔ مغربیوں کو یقین دلایا گیا کہ مسلمان اپنے بتوں کے آگے عبادتی رسوم منعقد کر تتے ہیں جن میں لوبان جلایا جاتا ہے اور نرسنگھا پھونکا جاتا ہے۔ اسی طرح سورج (Apollo) ان کا دوسرا دیوتا تھا۔ ایک فرانسیسی مصنف کے بیان کے مطابق 778ء میں شارلی مین کی فوجوں سے مسلمانوں کو ”شکست“ ہوئی تو انھوں نے اپنا غصہ سورج دیوتا پر نکالا اور اس پر پل پڑے ۔ ایلزبتھ کے دور کا ایک اور نامور مصنف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader