پیغبر کا نمونہ
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغامبر کا نمونہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور دوسرے پیغمبروں کا استقبال ان کی قوموں نے بہت برے انداز میں کیا۔ انھوں نے ان کا مذاق اُڑایا۔ ان کی تحقیر و تذلیل کی۔ ان کے اوپر جھوٹے الزامات لگائے، وغیرہ۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا کہ اس قسم کے مجرمین کو گردن زدنی قرار دے کر فوراً انہیں قتل کر دیا جائے۔ بلکہ دلیل کے ذریعہ ان کی بات کی کاٹ کی گئی۔ مثال کے طور پر اس سلسلہ میں ایک آیت یہ ہے۔ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (52-68: 51)۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ضرور دیوانہ ہے۔ حالانکہ وہ صرف نصیحت ہے سارے عالم والوں کے لیے۔ ان آیات پر غور کیجیے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ لوگ خدا کے پیغمبر کو مجنون کہتے ہیں، اس لیے انہیں فوراً قتل کر دو۔ بلکہ دلیل کی زبان میں ان کی بات کو رد کیا گیا۔ اس آیت کا مطلب دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ اے پیغمبر کو مجنون کہنے والو، پیغمبر کے کلام کو دیکھو۔ کیا مجنون کا کلام ایسا ہوتا ہے۔ جس قرآن کو وہ تمھارے سامنے پیش کر رہا ہے، وہ سراپا نصیحت ہے۔ اس میں ساری انسانیت کے لیے بہترین پیغام ہے۔ کیا کوئی جنون والا آدمی کتاب لا سکتا ہے جس میں اتنی اعلیٰ تعلیمات درج ہوں۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ہجو اور استہزاء کے مواقع پر یا تو صبر کیا، یا دلیل کی زبان میں ان کا رد کیا۔ آپ قاتلِ عالم نہیں تھے بلکہ رحمتِ عالم تھے (الانبیاء، 107: 21)۔ اور رحمتِ عالم وہی شخص ہو سکتا ہے جو لوگوں کی ایذا رسانی کے باوجود انہیں معاف کرے، جو لوگوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader