شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف اشتعال انگیز سلوک کے باوجود ان کے لیے رحمت کا پیکر بنا رہے۔ آپ کی یہی بلند کرداری ہے جس کی شہادت قرآن میں ان لفظوں میں دی گئی ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4)۔ یعنی، بے شک تم بلند اخلاق پر ہو۔ دعوتی تصویر اسلام ایک دعوت ہے، نہ کہ محض ایک تعزیزی قانون۔ اسلام کی اولین دلچسپی خدا کے بندوں کو خدا کا پرستار بنانا ہے، نہ کہ انہیں مجرم قرار دے کر انہیں کوڑا مارنا اور گولی اور پھانسی کا نشانہ بنانا۔ تعزیزی قانون کو اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ مگر دعوت کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ داعی لوگوں کو ختم کرنے کے بجائے لوگوں کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے داعی ایسا نہیں کرتا کہ لوگوں کے خلاف اندھا دھند سزائیں جاری کرنا شروع کردے۔ وہ یک طرفہ طور پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انسان کے ”حال“ سے زیادہ انسان کے ”مستقبل“ پر نظر رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرتا ہے تا کہ لوگوں کے اندر اس کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو، وہ لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کرتا ہے تا کہ جو لوگ آج اس کے ہجو گو ہیں، کل اس کے مدح خواں بن جائیں۔ جو لوگ ابھی اس کے ساتھی نہیں بنے، آئندہ وہ اس کے شریک اور ساتھی بن جائیں۔ داعی کا کام غیر کو اپنا بنانا ہے، نہ کہ جو غیر دکھائی دے اس کا دشمن بن کر صرف اس کی ہلاکت کے درپے ہو جانا۔ بدنامی سے بچت کسی کارخانہ کی خوش نامی اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لیے اس کی دعوتی تصویر بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام میں یہ بات آخری حد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader