Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دعوتی تصویر

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

تک مطلوب ہے کہ اسلام کی دعوتی تصویر کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت ہر دوسری چیز پر مقدم ہے، حتیٰ کہ توہینِ رسالت اور اہانت اسلام جیسے جذباتی مواقع پر بھی۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں عبداللہ بن ابی بن سلول کی مثال درج کی جاتی ہے۔ یہ شخص مدینہ کے قبیلہ خزرج کا سردار تھا۔ اس کی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر مدینہ کے لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنانا چاہا۔ اس کے لیے تاج کی تیاری بھی شروع ہوگئی۔ عین اسی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں آتے ہی لوگوں نے آپ کو اپنا بڑا بنالیا۔ عبداللہ بن ابی کو اس سے بہت تکلیف پہنچی۔ حالات کے دباؤ کے تحت اس نے رسول اللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ تاہم اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض پیدا ہوگیا۔ وہ اپنے دل کو تسکین دینے کے لیے ساری عمر آپ کی توہین و تحقیر کرتا رہا۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے نکلے۔ آپ ایک گدھے پر سوار تھے ۔ راستہ میں عبداللہ بن ابی کا قلعہ نما مکان آیا جس کا نام مزاحم تھا۔ اس وقت عبداللہ بن ابی کے گرد اس کے قبیلہ کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ وہاں سواری سے اتر پڑے اور عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچ کر اس کو سلام کیا۔ آپ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ راوی (اسامہ بن زید بن حارثہ) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بے پروائی کے ساتھ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ فارغ ہو چکے تو عبداللہ بن ابی نے کہا: اے شخص، آپ کی یہ بات اچھی تو ہے، لیکن اگر وہ حق ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھیں اور جو شخص اس کو سننے کے لیے آپ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page