دعوتی تصویر
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس آئے اس کو سنائیں، اور جو شخص آپ کے پاس نہ آئے تو اس کو آپ اس کی تکلیف نہ دیں۔ اور ایسے شخص کی مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں جو اس کو ناپسند کرتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن ابی کا یہ قول سخت ناگوار ہوا مگر آپ خاموشی سے آگے بڑھ گئے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 219)۔ (2) غزوہ احد (شوال 3ھ) میں قریش کا لشکر مکہ سے چل کر مدینہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے مشورہ فرمایا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شہر کے اندر ٹھہر کر مقابلہ کیا جائے۔ عبد اللہ بن ابی نے یہی دوسری رائے پیش کی۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گروہ کی رائے کا لحاظ فرمایا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ جب آپ مدینہ اور احد کے درمیان پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر اسلامی فوج سے الگ ہو گیا۔ اس طرح اس نے بے حد نازک موقع پر سخت بے وفائی کا ثبوت دیا۔ مزید یہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کی۔ اس نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا کہ اس شخص نے دوسروں کی بات مانی اور میری بات نہیں مانی۔ لوگو، میں نہیں سمجھتا کہ ہم یہاں کس لیے اپنے آپ کو ہلاک کریں : أَطَاعَهُمْ فَخَرَجَ وَعَصَانِي، وَاللَّهِ مَا نَدْرِي عَلَامَ نَقْتُلُ أَنْفُسَنَا هَاهُنَا أَيُّهَا النَّاسُ (تفسیر الطبری، جلد 6، صفحہ 222)۔ (3) غزوہ بنی المصطلق شعبان 6ھ میں ہوا۔ اس مہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبد اللہ بن ابی بھی تھا۔ سفر سے واپسی میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قافلہ نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ صبح کو اندھیرے میں روانگی ہوئی۔ اس وقت ایک اتفاقی غلطی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader