دعوتی تصویر
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
سے حضرت عائشہ، جو آپ کے ساتھ شریک سفر تھیں ۔ قافلہ میں پیچھے رہ گئیں۔ سورج نکلنے کے بعد ایک صحابی صفوان بن معطل سلمی اس جگہ سے گزرے ۔ انھوں نے حضرت عائشہ کو اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور خود اس کی نکیل پکڑ کر آگے چلتے ہوئے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے خوب استعمال کیا۔ حضرت عائشہ کا اس طرح تنہا ایک نو جوان کے ساتھ آنا ایک ہنگامی سبب سے تھا۔ مگر عبداللہ بن ابی نے اسے برے معنی پہنا کر خوب تقریریں کیں۔ اس نے اس واقعہ کو پیغمبر کی کردار کشی کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ پورے مدینہ میں آپ کے خلاف شک و شبہ کی فضا ہو گئی۔ اس واقعہ کی تفصیلات سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ جس شخص نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا حصہ ادا کیا اس کے لیے عذاب عظیم ہے (24:11)۔ اس آیت میں جس شخص کے لیے سب سے بڑا عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے۔ مگر اس کو دنیا میں کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اس کے معاملہ کو تمام تر آخرت کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مرا۔ (4) غزوہ بنی المصطلق (5ھ) سے واپسی میں ایسا ہوا کہ پانی کے ایک چشمہ پر پانی لینے کے لیے مسلمانوں کا ہجوم ہو گیا۔ اس وقت ایک مہاجر اور ایک انصار آپس میں لڑ گئے۔ مہاجر نے کہا: یا للہما جرین ، انصاری نے کہا: یا للأنصار - یہاں تک کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما کر اس کو ختم کیا۔ عبداللہ بن ابی پہلے سے اس بات پر خوش نہ تھا کہ مکہ کے مسلمانوں کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ بلا کر انہیں یہاں پناہ دی جائے۔ اس واقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader