Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے اپنے قبیلہ والوں کے سامنے اشتعال انگیز تقریر کی۔ اس میں اس نے کہا کہ اپنے کتے کو پال کر موٹا کرو کہ وہ تمہیں کو کاٹ کھائے۔ خدا کی قسم، اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو عزت والا ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291) عبداللہ بن ابی کی یہ باتیں سن کر صحابہ کو غصہ آگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں: دَعْهُ، لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4905)۔ مزید مثالیں اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مثلاً لیش بن سعد نے یحییٰ بن سعید سے، انھوں نے ابو الزبیر سے روایت کی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا کہ جعرانہ میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے۔ آدمی نے دیکھ کر کہا کہ اے محمد، انصاف کیجیے۔ آپ نے فرمایا، تمہارا برا ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون انصاف کرے گا: يَا مُحَمَّدُ، اعْدِلْ قَالَ: وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلْ۔ حضرت عمر نے یہ گفتگو سن کر کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں، آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ کہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِي، يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ، فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1063)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page