شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ تبوک کی واپسی میں کچھ منافق قسم کے مسلمان آپ کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں سے الگ ہو کر بیٹھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے ہودہ باتیں کیا کرتے۔ حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے بتایا کہ یہ لوگ بیٹھ کر آپس میں ہمارے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے کہا اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپ اجازت دیں گے کہ ہم انہیں قتل کریں۔ آپ نے فرمایا مجھے ناپسند ہے کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں : أَنْکَرَ مًٔأنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8100)۔ زیادہ قابلِ لحاظ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی اور آپ کے خلاف سب وشتم والے افعال کیے۔ حتیٰ کہ صحابہ کرام کو وہ قابلِ قتل نظر آنے لگے۔ انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اجازت دیں تو وہ انہیں قتل کر دیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کی اجازت نہ دی۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اگر میں ان کو قتل کر دوں تو لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس کو اسلام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز ہے جو ”قتلِ شاتم“ سے بھی زیادہ قابلِ لحاظ ہے۔ اور وہ اسلام کی دین رحمت کی تصویر ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں دعوتی تصویر بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کی دعوتی تصویر بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک شخص کے کھلے ہوئے سب وشتم اور اس کی شدید ایذا رسانی کے باوجود اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو نظر انداز کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader