Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز دعوتی مصلحت ہے۔ دعوتی مصلحت اسلام میں سپریم حیثیت کا درجہ رکھتی ہے۔ دعوتی مصلحت کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر دیا جائے گا، خواہ وہ بجائے خود کتنی ہی سنگین نظر آتی ہو۔ مسلمانوں کے دلوں کے مجروح ہونا خدا اور رسول کی نظر میں اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ دعوتی مصلحت کا مجروح ہونا۔ اگر کسی معاملہ میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں تو انہیں اپنے جذبات کو دبانا چاہیے، نہ کہ وہ جذبات کا بے جا اظہار کریں اور دعوت کے قیمتی مصالح کو برباد کر کے رکھ دیں۔ اغیار کو موقع نہ دینا مذکورہ واقعات میں جن افراد کا ذکر ہے، ان کی توہینِ رسول اور اسلام دشمنی بالکل واضح تھی۔ اپنے کردار کے اعتبار سے بلاشبہ وہ لوگ اس کے مستحق بن چکے تھے کہ ان کو قتل کر دیا جائے ۔ اسی بنا پر صحابہ کرام نے ان کو اعداء اللہ قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اجازت دیجیے کہ ہم خدا اور رسول کے ان دشمنوں کو قتل کر کے ان کا خاتمہ کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان اشخاص کو قتل کرتے تو اس کی وجہ یقینا ان کی اسلام دشمنی ہوتی۔ مگر امتحان کی اس دنیا میں جہاں ہر ایک کو آزادی ہے، آپ کسی کو اس پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ وہی الفاظ بولے جو آپ چاہتے ہیں کہ بولا جائے۔ چنانچہ یہ یقینی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر صرف ان کے شتم کو دیکھا اور شتم کی سزا کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کو نہیں دیکھا اور ان افراد کو قتل کرا دیا تو اس کے بعد ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ اصل واقعہ کے مطابق صرف یہ کہیں کہ ”محمد نے اسلام دشمنوں کو قتل کیا ہے“۔ اس کے برعکس یقینی تھا کہ وہ کہیں گے کہ ”محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں“ ان برے لوگوں کا قتل بجائے خود ایک صحیح فعل تھا۔ مگر حالات کے اعتبار سے یقینی تھا کہ صحیح ہونے کے باوجود وہ عوام کے درمیان اسلامی بدنامی کا سبب بن جائے گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page