Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اغیار کو موقع نہ دینا

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ نہ تھا کہ پہلے قتل کردیں ۔ اور پھر جب لوگ بدنام کریں تو اس کے بعد یہ شکایت کریں کہ لوگ ہم کو غلط طور پر بدنام کرتے ہیں ۔ اس کے بجائے آپ کا طریقہ یہ تھا کہ ایسا فعل ہی نہ کیا جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو غلط طور پر بدنام کرنے کا موقع ملے۔ اس معاملہ میں یہی حکمتِ نبوی ہے۔ ٹھیک یہی صورے حال آج ہمارے سامنے ہے۔ سلمان رشدی نے بلاشبہ توہینِ رسالت اور اسلامی دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ لیکن مسلمان اگر اس کے خلاف قاتلانہ کاروائی کریں تو ہرگز ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ یہ کہیں کہ مسلمانوں نے ایک اسلام دشمن کو قتل کردیا۔ بلکہ لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ مسلمان آزادی فکر کے قاتل ہیں۔ اسلام کا اصل انحصار تلوار کی طاقت پر ہے، نہ کہ دلیل کی طاقت پر۔ ہمیں حقیقت کو جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی فکر کو سب سے بڑی قدر کا درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی خیر اعلیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج کا انسان کسی مذہب یا نظام کو غیر مہذب اور وحشیانہ سمجھتا ہے جو آزادی فکر کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ ایسی حالت میں، باعتبارِ نتیجہ، سب سے بڑی اسلام دشمنی یہ ہوگی کہ کوئی ایسا عمل کیا جائے جو دنیا والوں کو یہ کہنے کا موقع دے کہ اسلام آزادی فکر کا قاتل ہے، اور اس لیے وہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ اس معاملہ میں سنتِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کو اس ’’بدنامی‘‘ سے بچایا جائے، خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی ہو، خواہ اس کے لیے کتنی ہی بری چیز کو برداشت کرناپڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام دشمنوں کو قتل نہیں کیا تا کہ لوگوں کے درمیان اسلام کی دعوت کا دروازہ کھلے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسلام دشمنوں کو قتل کرنے کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page