Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

سرگرم ہیں تاکہ لوگوں کے درمیان اسلام کی دعوت کا دروازہ بند ہو جائے، اس قسم کی سرگرمی بلاشبہ سرکشی ہے، اس کا خدا اور رسول کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ دو اقتباس سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے مجنونانہ ایجی ٹیشن کا فائدہ تو کچھ نہ ہوا۔ البتہ اس کا یہ زبردست نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو کر رہ گیا۔ اس کی بے شمار مثالیں 1989 کے نصف اوّل میں سامنے آتی ہیں۔ یہاں مسئلہ کی وضاحت کے لیے ان میں سے دو مثال نقل کی جاتی ہیں۔ ”لندن کے مضافات میں مقیم ایک برطانوی نژاد نومسلم انگریز نے، جس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے، لکھنؤ میں مقیم اپنے ایک دوست کو لکھا ہے کہ مجھے اپنے خاندان، رشتہ داروں، اپنے دوستوں اور اپنی پوری قوم کا رویہ بدلا ہوا نظر آرہا ہے۔ چاروں طرف سے لوگ حملے کر رہے ہیں۔ جملے کس رہے ہیں، اور خمینی کا نام لے کر چڑھ رہے ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انگریز قوم کے اندر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام سے اتنی نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اس واقعہ سے پہلے جو چند ماہ میں نے اسلام لانے کے بعد یہاں گزارے تھے، ان کے دوران مجھے ایسی تلخی کا کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا۔“ ماخوذ از ماہنامہ الفرقان، لکھنؤ، اپریل 1989، صفحہ 5-4 2۔ ٹائم میگزین (17 اپریل 1989) کے دوصفحہ پر یورپ میں اسلام کے بارے میں ایک با تصویر رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا ایک پیرا گراف یہ ہے: "The incendiary furore over Salman Rushdie and his novel, The Satanic Verses, reinforced the longstanding Western stereotype of Islam as a religion of intolerance and violence. The clash in Europe was

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page