اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
فرانس بیکن (Francis Bacon) محمد کو عطائی (Mountebank) قرار دیتا ہے۔ اس نے اپنے مقالہ ”ہمت و استقلال“ (Boldness) میں نقل کیا ہے: ”محمد نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑی کو ہلائیں گے اور وہ ان کے پاس چلی آئے گی۔ لوگ جمع ہوئے۔ محمد نے پہاڑی کو اپنے پاس آنے کے لیے کہا۔ وہ بار بار پکارتے رہے اور جب پہاڑی اپنی جگہ کھڑی رہی تو وہ ذرا بھی نہیں شرمائے۔ بلکہ انھوں نے کہا ـــ ”اگر پہاڑی محمد کے پاس نہیں آسکتی تو محمد تو پہاڑی تک جاسکتے ہیں“۔ Works of Francis Bacon, Vol. II, London 1929, p 279 مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس واقعہ کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ تاہم قرون وسطیٰ کے تمام مصنفین نے اس خلافِ اسلام انداز کو نہیں اپنایا تھا۔ صلیبی دور کا ایک بشپ، ولیمہ آف ٹریپولی (William of Tripoli)، جس کی پیدائش شام میں ہوئی تھی۔ اس نے 1270 میں ایک رسالہ لکھا جس میں اگرچہ محمد کو وہ جھوٹے رسول کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔ مگر آپ کے حالات میں دشمنام طرازی اور افسانوی حصے کو بہت کم کر کے پیش کیا ہے۔ اسی طرح 1679 میں ایک انگلش پادری لانَس لاٹ ایڈیسن (Lancelot Addison) نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے ان من گھڑت اجزاء کو الگ کرنے کی کوشش کی جو محمد کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ بعض مواقع پر اس نے پہلے کسی واقعہ کو افسانوی تصویر کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ ایڈیسن کے ایک ہم عصر ہمفری پرائیڈکس (Humphrey Prideaux) نے آپ کی مکمل سوانح حیات لکھی جس میں کبوتر کے قصہ کو اور اسی طرح دوسری بہت سی کہانیوں کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ان کو صحیح ماننے کے لیے کوئی واقعی بنیاد موجود نہیں۔ تاہم اس سوانح حیات کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ایک مکارانہ مذہب (Fraudulent Religion) کا معیاری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader