Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دور اول کی مثال

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

دورِ اول کی مثال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے۔ یعنی جیسے ہی کوئی شخص ایسے الفاظ بولے جو مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نظر آئے، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے، اسلام میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے ساتھ استہزاء کا معاملہ کوئی اتفاق نہیں۔ یہ مجرمانہ فعل بلا استثنا خدا کے تمام پیغمبروں کے ساتھ ہمیشہ جاری رہا ہے (15:11؛ 43:7)۔ قرآن میں تقریباً 50 مقامات پر بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کا استہزاء اور تمسخر کیا۔ انھوں نے ان کی شان میں گستاخیاں کیں ۔ مگر ایک جگہ بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جہاں بھی کوئی شخص پیغمبر کا مذاق اڑائے، فوراً اس کو قتل کر دو۔ ایسے کسی شخص کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔ قرآن میں استہزاء کے جرم کا ذکر تو بار بار آیا ہے مگر اس کے مجرم کے لیے سزائے قتل کا اعلان سارے قرآن میں کہیں بھی موجود نہیں۔ قرآن میں مستہزئین رسالت کے سلسلہ میں صرف دو قسم کے رد عمل کا ذکر پایا جاتا ہے۔ یا تو دلائل کے ساتھ ان کی کہی ہوئی بات کو رد کیا گیا ہے، یا انھیں خدا کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ یہ استہزاء کرنے والے غیر مسلمین بھی ہوتے تھے (یس، 36:30) اور منافق قسم کے مسلمان بھی (البقرہ، 4: 2؛ التوبہ، 9:35)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قسم کے لوگوں کی طرف سے یہ معاملہ اپنی بدترین صورت میں پیش آیا۔ مگر مجرد استہزاء کی بنا پر قرآن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page