شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نہ غیر مسلموں کے لیے قتل کی قانونی سزا کا حکم دیا گیا اور نہ منافق مسلمانوں کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر رسول کی اہانت اور آپ کے ساتھ گستاخی کو اس طرح مطلق انداز میں واجب القتل جرم قرار دے دیا جاتا تو مجرم سے زیادہ خود اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتا۔ کیونکہ اسلام کے وہ مقدس سپاہی جن کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے، ان کی بیشتر تعداد ابتداءِ عین اسی جرم میں مبتلا تھی جس کو ”رسول کی شان میں گستاخی“ کہا جاتا ہے۔ اگر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی فوراً انہیں قتل کر دیا جاتا تو یہ سادہ معنوں میں صرف مجرم کا قتل نہ ہوتا بلکہ تاریخ ساز انسانوں کا قتل ہوتا۔ اس کے بعد اسلام کی وہ تاریخ ہی نہ بنتی جو بعد کو بنی، اور جو موجودہ مسلمانوں کا سب سے زیادہ پر فخر سرمایہ ہے۔ تمام قیمتی زندگیاں اس سے پہلے ہی ختم ہوجاتیں کہ اسلام قبول کریں اور دنیا کی تاریخ میں وہ عظیم الشان کردار ادا کریں جو منصوبہء الہیٰ کے تحت اس کے لیے عالمی سطح پر مقدر کیا گیا تھا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کچھ واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ واقعات بطور حصر نہیں ہیں، بلکہ صرف بطور مثال ہیں۔ پہلے کچھ غیر مسلموں کے واقعات درج کیے جائیں گے، اور اس کے بعد کچھ مسلمانوں کے واقعات۔ مستقبل پر نظر قدیم مکہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ آج سہیل بن عمرو کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہوتا ہے۔ مگر اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شریک ہوئے۔ اس لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مشرکین کو شکست ہوئی۔ ان کے 70 آدمی گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے۔ ان میں سے ایک سہیل بن عمرو بھی تھے۔ سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیبِ قریش کہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader