Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مستقبل پر نظر

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتے تھے۔ اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھر پور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ وہ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے۔ اور آپ کے خلاف اور اسلام کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہتے تھے۔ جب وہ گرفتار ہو کر مدینہ آئے اور ان کے اور پر مسلمانوں کو پوری طرح قابو حاصل ہو گیا، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں سہیل بن عمرو کے سامنے کے دانت توڑ دوں۔ اس طرح اس کی زبان باہر نکل پڑے گی اور اس کی آواز خراب ہو جائے گی۔ اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ آپ کے خلاف خطیب بن کر کھڑا ہو سکے۔ بظاہر یہ ایک جائز بات تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس کا مثلہ نہیں کروں گا۔ اگر میں اس کا مثلہ کروں تو اللہ میرا مثلہ کرے گا، اگر چہ میں ایک رسول ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے مزید ایک بات فرمائی۔ یہ بات بظاہر شخصی ہے مگر وہ ایک عالمی انسانی حقیقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ سہیل بن عمر وایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں تم ان کی مذمت نہ کر سکو: لَعَلَّهُ يَقُومُ مَقَامًا لَا تَكْرَهُهُ ( مغازی الواقدی ، جلد 1، صفحہ (107)۔ چنانچہ مثلہ یا قتل کے بغیر سہیل بن عمرو کو چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غیر معمولی سلوک کیا کہ غزوہ بدر (2ھ) کے بعد ان پر قابو پانے کے باوجود انہیں رہا کر دیا۔ مگر اب بھی وہ اپنی اسلام دشمنی سے باز نہ آئے۔ انھوں نے مکہ کے لوگوں کو دوبارہ اکسایا اور تین ہزار کی فوج لے کر مدینہ پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ اندوہناک جنگ پیش آئی جس کو غزوہ احد (3ھ) کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page