Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مستقبل پر نظر

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی سہیل بن عمرو تھے جنھوں نے معاہدہ حدیبیہ (6ھ) کے موقع پر لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کو کاغذ سے محو کرا دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی یک طرفہ شرائط پر راضی ہو نے کے لیے مجبور کیا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد فرمائی۔ 8ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ اس وقت تک سہیل بن عمرو کفر کی حالت میں تھے۔ مگر اب بھی، ثابت شدہ جرائم کے باوجود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ اس کے برعکس آپ نے اپنے اصحاب کو ان کے ساتھ حسنِ اخلاق کی ہدایت فرمائی۔ آپ نے کہا: مَنْ لَقِيَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَلَا يَشُدُّ النَّظَرَ إِلَيْهِ، فَلَعَمْرِي، إِنَّ سُهَيْلًا لَهُ عَقْلٌ وَشَرَفٌ، وَمَا مِثْلُ سُهَيْلٍ يَجْهَلُ الإِسْلَامَ (الطبقات الكبرى، حدیث نمبر 198)۔ یعنی جو شخص سہیل بن عمرو سے ملے، وہ اس کی طرف تیز نگاہوں سے نہ دیکھے۔ میری جان کی قسم، بلاشبہ سہیل عقل اور شرف والا آدمی ہے۔ اور سہیل جیسا آدمی اسلام سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایتیں جاری رہیں۔ غزوہ ہوازن کے بعد آپ نے ان کو ایک سو اونٹ تالیف قلب کے طور پر دیے ۔ اس عطیہ کے بعد وہ بالکل ڈھ پڑیں اور اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب قبائل میں یہ تاثر پھیل گیا کہ وہ شخص دنیا سے چلا جس کی وجہ سے اسلام کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ چنانچہ عرب قبائل کی اکثریت ارتداد کی طرف مائل ہو گئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مکہ کے بیشتر لوگوں نے یہ چاہا کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ انھوں نے اس کا پورا ارادہ کر لیا۔ مکہ کی فضا اتنی خراب ہوئی کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید روپوش ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page